سہیل آفریدی مثبت بات کریں تو ویلکم، منفی رویہ قبول نہیں، گورنر سندھ

کراچی : گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی مثبت اور تعمیری انداز میں بات کریں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا، لیکن منفی بیانات یا توڑ پھوڑ کی سیاست برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خدارا یہاں آ کر منفی باتیں نہ کریں، توڑ پھوڑ کی سیاست نہ کریں۔ اب یہ ملک ایک اور 9 مئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

کامران ٹیسوری نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چار سال میں عوام کو گالیاں دینا سکھایا اور ملک میں سیاسی تناؤ پیدا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن کاروبار بند ہونے سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، اور معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے ہر سیاسی جماعت کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ حالات بدل چکے ہیں اور دنیا کی نظریں اب پاکستان پر ہیں۔

انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ تعمیری مکالمہ اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہے اور معیشت مستحکم ہو۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی امن وامان خراب کرنا چاہتی تھی! شرجیل میمن کی پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی کا اصل چہرہ بے نقاب

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہ کرانے کی خطرناک کوشش کی، جسے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت حکمت عملی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی مسلسل پروپیگنڈا اور جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کا رویہ اپنا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جناح گرائونڈ پر تالے لگنے کی خبریں سراسر جھوٹ ہیں، کیونکہ وہاں کوئی گیٹ موجود ہی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا ہم نے خیبر پختونخوا حکومت کو ممکنہ خطرات سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اور مہمانوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا، مگر جب پی ٹی آئی قیادت ٹریفک میں پھنس گئی تو انہوں نے انتظامیہ پر بے بنیاد الزامات لگانا شروع کر دیے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی، مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔

ان کے مطابق اجازت ملنے کے صرف چند منٹ بعد ہی یہ کہا گیا کہ وہ سڑک پر جلسہ کریں گے، جو طے شدہ معاہدے اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔

Scroll to Top