بچوں سے جدائی کا خوف، درجنوں پاکستانی خاندان امریکی ویزا پابندی کے بعد غیر یقینی صورتحال میں الجھ گئے

امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگریشن ویزا پراسیس غیر معینہ مدت تک معطل کر دیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی خاندانوں کی زندگیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

کئی والدین، شریکِ حیات اور بچے جو برسوں سے قانونی مراحل مکمل کر چکے تھے، اب شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں اور خوفزدہ ہیں کہ یہ فیصلہ انہیں طویل عرصے کے لیے الگ کر دے گا۔

نیو جرسی میں مقیم زاہد مصطفیٰ گزشتہ 35 برس سے امریکا میں کاروبار کر رہے ہیں، ان کے پانچ امریکی نیشنل بچے اپنی والدہ کے ساتھ پشاور میں مقیم ہیں کیونکہ زاہد کی اہلیہ کو تاحال ویزا نہیں ملا۔

زاہد کا کہنا ہے کہ اہلیہ کا تمام ویزا پراسیس مکمل تھا اور انٹرویو کی امید تھی کہ اچانک ویزا معطلی کا اعلان ہو گیا، اب پتا نہیں میرے بچوں اور ان کی والدہ کا مستقبل کیا ہوگا، بچے ماں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

لاہور کے رہائشی واحد علی بھی امریکی فیصلے سے متاثر ہیں، ان کا بیٹا امریکی شہری ہے جبکہ اہلیہ کو ویزا مل چکا تھا اور واحد علی کا پراسیس آخری مراحل میں تھا، ان کا کہنا ہے کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ اہلیہ کو 21 جنوری سے پہلے امریکا بھیج دیں کیونکہ بعد میں داخلے میں مشکلات آ سکتی ہیں۔

اویس خالد جو پاکستانی شہری ہے 2018 سے امریکہ میں مقیم ہیں، ان کے دو سالہ بیٹے کا ویزا انٹرویو فروری میں ہونا تھا مگر ویزا معطلی کے باعث یہ عمل رک گیا اویس کا کہناہے کہ بچہ ماں باپ سے دور رہ کر ذہنی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔

ویزا کنسلٹنٹ رخسانہ ناز خٹک کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کم از کم چار لاکھ افراد ہر وقت امریکی امیگریشن ویزا پراسیس مکمل ہونے کے منتظر ہیں، انہوں نے کہا کہ معطلی کے نوٹس میں کوئی واضح مدت نہیں دی گئی، جس سے متاثرہ خاندان شدید مایوسی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہری خبردار: امریکہ نے امیگرنٹ ویزا سروس سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرینٹ ویزا جاری ہو چکا ہے وہ منسوخ نہیں کیے جا رہے تاہم نئی درخواستوں پر کارروائی روک دی گئی ہے اور پابندی کے خاتمے کے متعلق کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔

 

نوٹ: یہ سٹوری بی بی سی سے لی گئی ہے۔

Scroll to Top