سلمان یوسفزئی
خیبر پختونخوا حکومت نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) ایکٹ میں ترمیم لانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا ترمیمی مسودہ تیار کر کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی ترمیم کے تحت بورڈ آف گورنرز کے چیئرپرسن کو عارضی بنیادوں پر اہم انتظامی عہدوں پر تقرری کا اختیار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیم منظور ہونے کی صورت میں چیئرپرسن ڈائریکٹر ہسپتال، ڈائریکٹر میڈیکل اور نرسنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر 120 دن کے لیے عارضی تقرریاں کر سکیں گے۔
مسودے کے مطابق اگر 120 دن کے اندر مستقل بھرتی نہ ہو سکی تو عارضی تقرری کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن:سینیٹ ،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کےاراکین سے متعلق بڑی خبر آگئی
ترمیمی مسودے میں ملازمین کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ بورڈ آف گورنرز کے کسی بھی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکیں، تاہم اس کے لیے پہلے گریوانس کمیٹی سے رجوع کرنا لازمی ہوگا۔ شکایت 30 دن کے اندر جمع کروانا ہوگی، البتہ مناسب وجوہات کی بنیاد پر کمیٹی مدت میں توسیع دے سکے گی۔
مسودے کے مطابق محکمہ صحت اپیلیٹ ٹربیونل کو سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گا جبکہ موجودہ عملہ اپنی موجودہ شرائط کے مطابق کام جاری رکھے گا۔مزید یہ کہ نئی ترمیم کے تحت ملازمین پہلے گریوانس کمیٹی میں شکایت درج کروائیں گے اور اس کے بعد اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کر سکیں گے۔
بورڈ کی منظوری سے بعض معاملات میں اپیلیٹ ٹربیونل سے قبل بھی گریوانس کمیٹی سے رجوع لازم ہوگا۔ترمیمی مسودے میں پالیسی بورڈ کو یہ اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے کہ وہ اس ایکٹ اور رولز کے مطابق قواعد و ضوابط بنا سکے۔
ذرائع کے مطابق ایم ٹی آئی ایکٹ میں یہ ترمیم صوبے کے میڈیکل اداروں کے انتظامی امور کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے متعارف کروائی جا رہی ہے۔





