وزیراعلی سٹریٹ موومنٹ چلا کراپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے،ڈاکٹر عباد

وزیراعلی سٹریٹ موومنٹ چلا کراپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہاہے،ڈاکٹر عباد

فضل نبی

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ڈاکٹر عباد نے صوبائی حکومت اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایسا منظر دیکھا جا رہا ہے کہ ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ خود اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہا ہے، جو طرزِ حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد نے کہا کہ حکومت کا بنیادی فرض عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے، مگر موجودہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے احتجاجی سیاست میں مصروف نظر آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری ذلت اور مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف صوبے میں بدامنی اور بحران کے باعث لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ سٹریٹ موومنٹ چلا کر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے وزیرِ اعلیٰ پر ذاتی وابستگی کو صوبے کے مفاد پر ترجیح دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو صوبے سے مخلص ہو، مگر بدقسمتی سے ہم پر ایسا وزیرِ اعلیٰ مسلط ہے جو عمران خان کے عشق میں مبتلا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی محبت میں وزیرِ اعلیٰ جو اقدامات کر رہا ہے، ان کے منفی اثرات براہِ راست عوام بھگت رہے ہیں۔

ڈاکٹر عباد نے وادی تیراہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہاں بچے، بوڑھے اور خواتین شدید سردی اور برفباری میں پھنسے ہوئے ہیں اور انسانی جانیں خطرے میں ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری عوامی خدمت کے بجائے پوسٹرز لگانے، سجاوٹ اور سیاسی سرگرمیوں میں استعمال کی جا رہی ہے، جو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نوشہرہ میں چیلا کی آمد کے موقع پر پوری سرکاری مشینری بروئے کار لائی گئی جبکہ عوامی مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا معدنی وسائل ترقی و انتظام کمپنی ایکٹ منظور

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ صوبے میں انتظامی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا کھلی بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

فوجی آپریشن سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عباد نے کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن کی اجازت خود وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دی تھی، تاہم اب وہی وزیرِ اعلیٰ اس آپریشن سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں، جو کھلی تضاد بیانی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر جیسے اعلیٰ انتظامی افسران براہِ راست صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں، لہٰذا اگر انتظامیہ نے فوجی آپریشن کی اجازت دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی مرضی اور رضامندی سے کیا گیا۔

ڈاکٹر عباد نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں وزیرِ اعلیٰ اب کس منہ سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ فوجی آپریشن کو نہیں مانتے۔

آخر میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، بحران بڑھتے جا رہے ہیں اور عوام بے یار و مددگار ہیں، جبکہ حکمران سیاسی نعروں اور احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہو کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Scroll to Top