گولڈمین سیچز کی پیشگوئی! سال 2026 کے آخر تک سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیچز (Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت سے متعلق نئی پیشگوئی جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور عالمی خدشات بروکریج ہاؤس کے مطابق اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے، جسے عالمی پالیسی اور جغرافیائی خدشات کے پیش نظر ایک مؤثر محفوظ سرمایہ کاری (ہیج) سمجھا جا رہا ہے۔
سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ سوموار کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5,097 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ رواں سال 2026 کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال سونے کی قیمت میں 64 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔
گولڈمین سیچز کی رپورٹ گولڈمین سیچز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ادارہ یہ فرض کر رہا ہے کہ وہ نجی سرمایہ کار جو عالمی پالیسی اور جغرافیائی خدشات کے پیش نظر سونے کو بطور ہیج استعمال کر رہے ہیں، 2026 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر فروخت نہیں کریں گے۔ اس رویے کے باعث سونے کی قیمت کے لیے ابتدائی سطح پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، جس نے قیمتوں کے اندازے کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع لانے کے لیے تیزی سے سونے کی خریداری کر رہے ہیں، تاکہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہی رجحان عالمی منڈی میں سونے کی طلب کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
ماہرین کی رائےماہرین اقتصادیات اور سرمایہ کاری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگیاں اور مالیاتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہیں تو سونا آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط محفوظ سرمایہ کاری بنا رہے گا، اور گولڈمین سیچز کی پیشگوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔





