موسمِ سرما میں پانی نہ پینے سے کون سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟

سردیوں میں لوگ اکثر پانی پینے کی عادت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کیونکہ پسینہ کم آتا ہے اور پیاس کم محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بھی جسم کو مناسب پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کمی کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

پیاس کم ہونے کا مطلب پانی کی ضرورت ختم ہونا نہیں

ٹھنڈے موسم میں جسم میں پسینے کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پانی کی ضرورت بھی کم ہو گئی مگر حقیقت یہ ہے کہ سانس اور ہیٹر کے استعمال سے پانی کی کمی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔

ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ

پانی کم پینے سے جسم میں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے جسے ڈی ہائیڈریشن کہتے ہیں، اس کی علامات میں تھکن، سر درد، منہ خشک ہونا، گہرا پیشاب اور چکر آنا شامل ہیں، سردیوں میں چونکہ پیاس کا احساس کم ہوتا ہے یہ مسئلہ آہستہ بڑھتا ہے۔

جلد کی خشکی اور پھٹنے کا خدشہ

سرد موسم میں ہوا پہلے ہی خشک ہوتی ہے اور اگر پانی کی کمی بھی ہو تو جلد خشک، کھردری اور بے جان ہو جاتی ہے، ہونٹ پھٹنا، ہاتھوں کی خشکی اور خارش جیسی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

ہاضمہ پر اثرات

پانی کی کمی قبض اور معدے کی بے آرامی کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ پانی آنتوں کی حرکت میں مدد دیتا ہے، سردیوں میں جب کھانے زیادہ بھاری ہوتے ہیں تو یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

گردوں پر اضافی دباؤ

کم پانی گردوں کے کام کو مشکل بنا دیتا ہے اور فاضل مادے خارج کرنے کے عمل میں رکاوٹ آتی ہے، مسلسل پانی کم پینے سے گردوں میں پتھری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

مدافعتی نظام متاثر ہو سکتا ہے

کافی پانی نہ پینے سے جسمانی دفاعی نظام کمزور پڑ سکتا ہے جس سے نزلہ زکام اور انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

روزانہ پانی کی مقدار

ماہرین صحت عام طور پر دن میں 8 سے 10 گلاس پانی پینے کی تجویز دیتے ہیں مگر یہ مقدار جسمانی ضرورت، سرگرمی اور موسم کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، سردیوں میں بھی پانی پینا لازمی ہے چاہے پیاس کم ہی کیوں نہ لگے۔

پانی پینے کی عادت بہتر بنانے کے طریقے

دن بھر تھوڑا تھوڑا کر کے پانی پینا، بوتل پاس رکھنا، نیم گرم پانی استعمال کرنا اور سوپ، سبزیاں اور پھل جیسی پانی سے بھرپور غذائیں کھانے سے یہ عادت آسانی سے بنائی جا سکتی ہے۔

سردیوں میں پانی کم پینے سے جلد کی خشکی، ڈی ہائیڈریشن، قبض، گردوں کے مسائل اور مدافعت کی کمزوری جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top