اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف تمام کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تحت روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں اور صوبے میں کسی بڑے آپریشن یا گورنر راج کے نفاذ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کے پاس کچھ فنڈز باقی ہیں تو وہ وفاق کو ادا کیے جائیں، تاہم صوبائی حکومت پہلے فراہم کیے گئے فنڈز کا حساب کتاب پیش کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن مقامی لوگوں کے تعاون سے ہو رہے ہیں اور کسی بڑے فوجی دستے کو علاقے میں بھیجنے کی ضرورت فی الحال نہیں۔
وزیر دفاع نے خصوصی طور پر تیراہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ دہشتگردی سے شدید متاثر ہے اور اگر کوئی بڑا آپریشن کیا گیا تو شہریوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں پاک فوج اور ریاست کے خلاف جذبات ابھارنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پی ٹی آئی میں مختلف آوازیں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان فیملی اور اسمبلی ارکان کا مؤقف الگ ہے، جبکہ کچھ لوگ چھپ کر بیان دیتے ہیں، جس سے الجھن پیدا ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن میں پی ٹی آئی کی اکثریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر کا انتخاب صحیح طریقے سے ہوتا تو پارٹی کے اندر اعتماد اور یکجہتی برقرار رہتی، اور انہوں نے محمود اچکزئی کے ساتھ پیش آنے والے حالات کا حوالہ بھی دیا۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس پر پاکستان کو تشویش ہے۔ خیبرپختونخوا میں پاکستانی فوجی جوانوں کو دہشتگردوں نے بے دردی سے شہید کیا، اور یہ مسئلہ حکومت اور فوج دونوں کے لیے سنجیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر خیبرپختونخوا کی اہم شخصیت سے ملاقات، وادی تیراہ کے بارے میں بڑی خبر سامنے آ گئی
وزیر دفاع نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں فنڈز کی بات کی جاتی ہے لیکن سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور عوام دیگر صوبوں کے انفراسٹرکچر دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے بیان میں فلمی ڈائیلاگ کی طرح طنزیہ انداز نظر آتا ہے۔
آخر میں وزیر دفاع نے بین الاقوامی تعلقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک دشمن ملک افغانستان کے ذریعے ایسے اقدامات کر رہا ہے جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں، اور ترکی کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف کے بیانات میں واضح پیغام یہ تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مؤثر اور محدود دائرہ کار کے ساتھ جاری ہیں اور حکومت کسی بھی بڑے آپریشن یا گورنر راج کے نفاذ کے حق میں نہیں ہے۔





