ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام شامل، اپوزیشن نے قومی شرمندگی قرار دیدیا

ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام شامل، اپوزیشن نے قومی شرمندگی قرار دیدیا

حال ہی میں جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

ان دستاویزات میں جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک دعویٰ شامل ہے جس میں اس نے مبینہ طور پر کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکی صدر کے مفاد کے لیے سرگرمیاں انجام دیں اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ اقدام کامیاب ثابت ہوا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین، جن میں بھارتی کانگریس کے رہنما بھی شامل ہیں، نے ان دعوؤں کو ’قومی شرمندگی‘ قرار دیا ہے۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ انسانی اسمگلر کا بھارتی وزیرِاعظم پر اثر و رسوخ کا دعویٰ کرنا ان کی دیانت داری اور جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

ان انکشافات کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیرِاعظم نریندر مودی سے وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ متنازع شخصیت جیفری ایپسٹین کو بھارتی وزیرِاعظم تک رسائی کیسے حاصل ہوئی۔

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے 30 جنوری کو ایپسٹین سے متعلق لاکھوں نئی دستاویزات جاری کیں، جنہیں گزشتہ برس کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سب سے بڑے ریکارڈز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

جاری کی گئی فائلز میں تقریباً 30 لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر اور 2 ہزار کے قریب ویڈیوز شامل ہیں، جن میں سے کئی دستاویزات ایک دہائی سے زائد پرانی ہیں۔ ان فائلز میں ایپسٹین کے اعلیٰ شخصیات سے روابط، جیل میں گزارے گئے وقت سے متعلق معلومات اور ایک نفسیاتی رپورٹ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل سے متعلق تفتیشی دستاویزات بھی منظرِ عام پر لائی گئی ہیں، جنہیں انسانی اسمگلنگ میں معاونت کے جرم میں سزا سنائی جا چکی ہے۔

تاہم ان فائلز میں شامل دعوؤں پر نہ تو بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہو سکی ہے۔

Scroll to Top