حکومت بلوچستان نے کہا ہے کہ ایل اے یا بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کرنے والی فیملیز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت بلوچستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ افراد جو بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے)اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف ) اور ان کے مختلف گروپوں سے وابستہ ہیں اور ان کے اہل خانہ ان کی شمولیت کی اطلاع نہیں دیتے یا دہشت گردوں سے اپنی لاتعلقی نہیں ظاہر کرتے انہیں سخت قانونی اور انتظامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ پابندیاں انتہائی سخت ہوں گی جن میں پاسپورٹ کی معطلی، بینک اکاؤنٹس کا منجمد ہونا، موبائل سمز کی معطلی، جائیداد خریدنے یا بیچنے پر پابندیاں، حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا خاتمہ، اور سرکاری ملازمتوں یا ٹینڈر کی منسوخی شامل ہیں۔
حکومت کا یہ فیصلہ 31 جنوری کو بلوچستان لبریشن آرم کے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 140 دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے، وفاقی اور صوبائی حکام نے اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جو پہلے بھی متعدد بار عوام میں پیش کی جا چکی تھی۔
حکام نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خاندان جو رضاکارانہ طور پر اپنے رشتہ داروں کی دہشت گردوں کے ساتھ شمولیت کی اطلاع دیں گے اور رسمی طور پر ان سے لاتعلقی ظاہر کریں گے انہیں کسی بھی قسم کی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، 48 گھنٹوں میں 172 دہشت گرد ہلاک
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکام نے ایک واضح پیغام دیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی نوعیت کی حمایت، چاہے وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔





