وزیراعظم سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات آج شیڈول، تیراہ سمیت اہم امور زیر غور آئیں گے

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اتوار کو خیبر ضلع میں امن کے قیام کے لیے بلائے گئے جرگے کے دوران کہا کہ وہ صوبے کے مسائل وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے اٹھائیں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کل وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا ہے تاکہ میرے صوبے اور اس کے عوام کے مسائل پر بات ہو سکے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے سامنے خیبر پختونخوا کے حقوق، ہمارے عوام اور آپ سب کے مفادات کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کروں گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبے میں جاری تیراہ آپریشن اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جیسے اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔

صوبے کے لیے وفاقی حکومت کے ذمے واجبات کی ادائیگی اور دیگر ترقیاتی امور بھی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے تحفظات اور صوبے کی ضروریات وزیراعظم کے سامنے واضح انداز میں پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی نے تیراہ کے عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنایا، سینئر صحافی حسن خان

 جبکہ دوسری جانب سینئر صحافی حسن خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے تیراہ کے عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنایا ہے۔

حسن خان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ اگر جلسے میں تیراہ کے عوام نے کہا کہ انہیں زبردستی نقل مکانی کرائی گئی ہے، تو انہیں فوراً واپس تیراہ بھیج دیا جائے گا۔

تاہم جلسے کے دوران خود سہیل آفریدی نے یہ تسلیم کیا کہ تیراہ کے عوام کو زبردستی گھروں سے نکالا گیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ تیراہ کے بجائے اسلام آباد جائیں گے۔

سینئر صحافی کا سوال ہے کہ اسلام آباد کیوں جا رہے ہیں؟ کیا وہ پختونخوا یا تیراہ کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے جا رہے ہیں؟

حسن خان کا کہنا ہے کہ نہیں! وہ اسلام آباد صرف اڈیالہ جیل میں قید سیاسی رہنما کی ضد اور انا کی تسکین کے لیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ تیراہ کے متاثرین کو صرف سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا 8 فروری کا احتجاج دراصل تیراہ کے عوام کو ایک بار پھر سیاسی کھیل کا حصہ بنانے کی کوشش ہے۔

Scroll to Top