فیک چیک : مستونگ سینٹرل جیل پر حملے اور قیدیوں کے فرار کی خبریں جھوٹی، وائرل ویڈیوز 2021 کی نکلیں

کوئٹہ : مستونگ سینٹرل جیل پر مبینہ حملے اور متعدد قیدیوں کے چھڑائے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ثابت ہوئیں۔

سکیورٹی اور فیک چیکنگ ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم بی ایل اے سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جو ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں، وہ حالیہ نہیں بلکہ سال 2021 کی پرانی فوٹیجز ہیں، جنہیں جان بوجھ کر موجودہ حالات سے جوڑ کر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

فیک چیک ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز کا مستونگ سینٹرل جیل یا کسی حالیہ سکیورٹی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔ مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور سکیورٹی اداروں کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی را (RAW) سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے گوادر پر حملے کی خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں، جنہیں بھی جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان پوسٹس میں استعمال ہونے والی ویڈیوز مختلف ممالک میں ہونے والے پرانے حملوں کی ہیں، جنہیں گوادر سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بی ایل اے کی جانب سے دہشت گرد بشیر زیب کی وائرل ویڈیو افغانستان میں دو ماہ قبل بنائی گئی، اعلیٰ سکیورٹی ذرائع کی تصدیق

سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ گوادر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی قسم کے حملے یا ہنگامی صورتحال کی کوئی اطلاع نہیں۔

انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جعلی خبروں اور پرانی ویڈیوز پر یقین نہ کریں، اور کسی بھی خبر کی تصدیق مستند ذرائع سے کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیک نیوز اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا جدید جنگ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوامی ذہنوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے، تاہم سکیورٹی ادارے ایسی کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top