اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹرخیبر پختونخوا اختیار ولی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خود یوٹرن لیا اور اپنے موقف کو تبدیل کر کے خود اپنا لیڈر مائنس کر دیا۔
یہ بات انہوں نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران بتائی۔
اختیار ولی نے کہا کہ جنید اکبر کے ٹوئٹ سے بھی یہی بات سامنے آ رہی ہے کہ وزیراعلیٰ کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امن اور دہشتگردی کے خاتمے کے بیانیے پر دوبارہ بحث نہیں ہو سکتی، اور جس ریاستی پالیسی کے تحت اقدامات ہوں گے، اسی کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔ اس معاملے میں زیرو ٹالرنس نافذ رہے گا۔
کوآرڈینیٹر وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خود رابطہ کیا اور ملاقات کے لیے اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے قبل صوبائی وزیر اور رکن قومی اسمبلی بھی ملاقات کے لیے رابطہ کر چکے تھے۔
اختیار ولی نے واضح کیا کہ ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے ان کی درخواست پر عمل میں آئی، اور یہ ملاقات بانی تحریک انصاف کی رہائی یا کسی سیاسی معاملے پر نہیں تھی۔ وزیراعظم نے صرف ان کی بات سنی اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں : حج ویزا کے لیے بائیو میٹرک کی آخری تاریخ قریب، ابھی مکمل کریں
اسی پروگرام میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شفیع جان نے بھی ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو میٹنگ کے لیے مدعو کیا، اور سہیل آفریدی نے اس دعوت کو قبول کیا۔
شفیع جان کے مطابق ملاقات میں صوبے کے شیئر، واجب الادا رقم، اور دہشتگردی کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وزیراعلیٰ کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ملاقات مکمل طور پر پروفیشنل اور معاملات کے حل پر مرکوز تھی، اور اس دوران سیاسی تنازعات یا دیگر معاملات زیر بحث نہیں آئے۔





