پشاور میں ایک تقریب کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے سامنے ایک طالبہ نے ایسے سوالات کیے کہ ماحول میں سسپنس اور تناؤ دونوں پیدا ہو گئے۔ طالبہ نے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ “جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، خیبر پختونخوا اصلی حکومت میں بھی 13 سال سے کیوں پسماندہ ہے؟”
طالبہ کے سوال نے براہِ راست وزیراعلیٰ کو آئینہ دکھایا۔ وہ مزید بولی، “آپ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے ہیں، بتائیں آپ نے صوبے کو کیا دیا ہے؟”
اس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جواب دیا، “آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہوگا۔” لیکن طالبہ نے پھر بھی پیچھے نہ ہٹی اور کہا، “جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، وہ صرف ایم این اے اور ایم پی اے کے گھروں میں ہوئی ہے۔
طالبہ نے مزید سوال کیا، “صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیا کیا؟” یہ سوال وزیراعلیٰ کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔ وزیراعلیٰ نے جواب میں کہا، “ہمیں فنڈز نہیں مل رہے ہیں، اور ہم نے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا ہے۔ آج ایک بہن کھڑی ہو کر صوبے کے چیف ایگزیکٹو سے سوال کر رہی ہیں، جو کہ ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔”
طالبہ اور وزیراعلیٰ کے درمیان مکالمے میں صوبے کی پسماندگی، کرپشن اور ترقی کے مسائل پر کھری باتیں سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں ترقی صرف لاہور اور کراچی کے مضافات تک محدود نہیں بلکہ جنوبی پنجاب، قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی ترقی کے منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 200 ارب روپے کی اسکیمیں چل رہی ہیں اور قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔
طالبہ کی جرات مندی اور وزیراعلیٰ کے جوابی بیانات نے تقریب میں موجود ہر فرد کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ موقع صوبے میں نوجوانوں کے شعور اور سول شجاعت کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا۔





