پاکستان پر دہشت گرد حملے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا سخت مؤقف سامنے آ گیا

نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور قابلِ نفرت کارروائی قرار دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے صدر اور برطانیہ کے مستقل مندوب جیمز کیریوکی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں 48 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں 31 عام شہری شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جاں بحق شہریوں میں پانچ خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

سلامتی کونسل کے اراکین نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔

سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی ہر شکل اور ہر صورت میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔

اراکین نے اس بات کو دہرایا کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر، منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، گزشتہ تین دن میں 197 دہشت گرد ہلاک، 22 جوان شہید

بیان میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت پاکستان کی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ان دہشت گرد کارروائیوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

سلامتی کونسل نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد یا محرک کے تحت ہو، ناقابلِ جواز اور مجرمانہ فعل ہے۔

کونسل کے مطابق دہشت گردی جہاں بھی، جب بھی اور جس کی جانب سے بھی کی جائے، اسے کسی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید کہا گیا کہ تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق، مہاجرین اور انسانی ہمدردی کے قوانین کے تحت دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدامات کریں تاکہ عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

Scroll to Top