حمد اللہ
ایبٹ آباد پولیس نے ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین اور منظم جرائم میں ملوث ایک بین الصوبائی گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ مغوی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ میرپور اصغر خان کو فرانس سے ایک شہری نے واٹس ایپ کال کے ذریعے اطلاع دی کہ اس کے والد عبدالعزیز ملانا ولد احمد بخش، سکنہ غازی کالونی ملتان، شادی کے سلسلے میں ایبٹ آباد آئے ہوئے تھے، تاہم اچانک ان سے رابطہ منقطع ہو گیا اور ان کا موبائل فون مسلسل بند جا رہا تھا۔
بعد ازاں مدعی کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی، جس میں ملزمان نے مغوی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ویڈیو ارسال کر کے اس کی رہائی کے بدلے 15 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
اطلاع موصول ہوتے ہی ایس ایچ او تھانہ میرپور نے فوری اور پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کا آغاز کیا۔ جدید تفتیشی خطوط پر ڈائیوو بس اڈے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ مغوی ڈائیوو بس سے اترنے کے بعد ایک انڈرائیور کی ٹیکسی میں سوار ہو کر روانہ ہوا تھا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کیا، جس کی نشاندہی پر ملزمان کا سراغ لگایا گیا۔
بعد ازاں پولیس ٹیم نے عثمان آباد ایبٹ آباد میں کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان وسیم عباس ولد محمد اکرم، سکنہ کچا کھوہ میاں چنوں خانیوال اور بی بی زوجہ شبیر احمد، سکنہ شیر گڑھ لاہور کو گرفتار کر لیا جبکہ مغوی عبدالعزیز ملانا کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ یہ واردات ایک منظم بین الصوبائی گروہ کی جانب سے کی گئی۔ گروہ میں شامل خاتون نے مغوی کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا اور بعد ازاں اسے عثمان آباد میں موجود اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیا، جہاں مغوی کو اغوا کر کے تاوان کے لیے قید رکھا گیا۔
ایس ایچ او تھانہ میرپور اصغر خان کی مدعیت میں گرفتار ملزمان کے خلاف دفعہ 365-A کے تحت مقدمہ درج رجسٹرڈ کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر سہولت کاروں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔





