اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ملاقات طے ہے تاہم اس کا وقت اور مقام ابھی حتمی نہیں ہوا، یہ بات وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہی۔
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ یہ ملاقات آئینی تقاضا بھی ہے کہ لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے درمیان رابطہ قائم ہو۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور پارلیمانی جمہوری روایت کے مطابق ملاقات لازمی ہے۔
انہوں نے ماضی کے تناظر میں کہا کہ 2018 سے 2022 تک لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے درمیان رابطے نہیں ہوئے، نہ فون پر بات ہوئی، نہ ملاقات ہوئی، لیکن اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور دونوں رہنما ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
رانا ثنااللہ نے 8 فروری کے بعد ملاقات کے امکان کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ ملاقات پی ٹی آئی کے احتجاج کے مومنٹم کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی ضرورت کے تحت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 8 فروری کے حوالے سے پی ٹی آئی یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کوئی بات نہیں کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر مستقبل کے بہتر تعلقات کے لیے بات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے بغیر الیکشن رولز یا سیاسی امور کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 8 فروری کے بعد عمران خان کے حوالے سے طارق فضل چوہدری کا بڑا بیان
رانا ثنااللہ نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر ملاقات کے دن منگل اور جمعرات مقرر کیے ہیں، ہائیکورٹ نے ملاقات کے دوران فیملی ممبران اور وکلا کی شمولیت کے اصول بھی طے کیے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب تک ان ہدایات کو مکمل طور پر نہیں مانا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ اسمبلی فلور پر بھی تمام پارٹیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا، اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔





