ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے آغاز سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی خام تیل ایک اعشاریہ پانچ نو ڈالر فی بیرل سستا ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 67.87 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
اسی دوران امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی ایک اعشاریہ پانچ ایک ڈالر کی کمی دیکھی گئی اور اس کی نئی قیمت 63.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ٹریڈنگ سیشن کے دوران ایک موقع پر دونوں بینچ مارکس میں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی۔
ایران اور امریکا کے مذاکرات کے نتائج عالمی تیل کی طلب و رسد اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے رجحانات پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اگر مذاکرات مثبت نتیجے پر پہنچے تو عالمی تیل کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا، جبکہ اگر کسی بھی قسم کی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو قیمتیں مزید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔
سرمایہ کار عالمی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ایران-امریکا مذاکرات کے نتائج مارکیٹ کے جذبات پر فیصلہ کن اثر ڈالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی نگاہیں مسقط پر: امریکا اور ایران آج فیصلہ کن مذاکرات کریں گے
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم جوہری مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات میں شرکت کے لیے عمان روانہ ہو چکے ہیں۔
امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر اہم اہلکار شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ شریک ہوگا اور اس کا مقصد منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل، امریکا اور ایران جمعے کو ترکی میں بات چیت کرنے والے تھے لیکن ایران کی درخواست پر مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کر دیا گیا۔
ایران نے اس کے علاوہ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت کو صرف جوہری امور تک محدود رکھنے کی شرط بھی عائد کی تھی۔ تاہم اب تک اس پر امریکا کی طرف سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا ہے۔





