خیبر پختونخوا ایک بار پھر سیاسی ہنگامہ آرائی کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہیں، مگر سیاسی ترجیحات کا محور بدستور احتجاجی سیاست ہی بنی ہوئی ہے۔
ایسے حالات میں تحریک انصاف کے یوتھ ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سڑکیں بند کرنے، موٹر وے بلاک کرنے اور احتجاجی مظاہروں کے اعلان نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی سیاست عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے مظاہروں اور سڑکوں کی سیاست تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں لوگ روزانہ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے لڑ رہے ہوں، وہاں موٹر ویز بند کرنے اور شہروں کو مفلوج کرنے کے اعلانات عوامی مسائل کے حل کے بجائے ان میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف سمجھے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی یوتھ ونگ کی جانب سے پشاور سمیت کئی شہروں میں احتجاج کی کال دی گئی ہے، جبکہ صوابی کے قریب موٹر وے بند کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
کارکنوں کو صبح 11 بجے ٹول پلازہ پر جمع ہونے اور وہاں سے مارچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ پشاور کے خیبر روڈ پر بھی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے ۔
اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ٹریفک نظام کو شدید متاثر کرتی ہیں بلکہ روزگار، کاروبار اور ہنگامی خدمات تک رسائی کو بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔انصاف یوتھ ونگ پشاور کے مطابق احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اہم راستوں اور شاہراہوں پر ٹریفک معطل کیے جانے کا امکان ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں صارفین نے اس اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب صوبہ معاشی بحران، مہنگائی اور بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہو تو سیاسی قیادت کو عوامی ریلیف اور مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات پر وسائل صرف کرنے چاہئیں جن سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس طرح کے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اور انتظامی اخراجات بھی سرکاری خزانے سے پورے کیے جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان اور عام شہریوں پر ہی پڑتا ہے۔
یقیناً احتجاج ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، تاہم جب یہی حق عام شہری کی روزی، مریض کی جان، طالب علم کے مستقبل اور کاروبار کے تسلسل پر اثر انداز ہونے لگے تو یہ حق کے بجائے ایک سیاسی ضد کا روپ دھار لیتا ہے حقیقت یہ ہے کہ بار بار کی ہڑتالیں اور دھرنے حکومتوں کے بجائے زیادہ تر عام آدمی کے لیے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔
یاد رہے کہ 8 فروری کے احتجاج کو بھی ملک بھر میں خاطر خواہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔





