اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج نے نہ صرف سیاسی محاذ پر ہلچل پیدا کی بلکہ اپنے ہی عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبوں کو ملانے والی اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے، اور رمضان کے آغاز سے پہلے سفری رکاوٹوں کی وجہ سے عوامی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے مریض اور مسافر بھی اس احتجاج کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، اور سڑکوں کی بندش سے عام شہری براہِ راست پریشانی میں ہیں، نہ کہ سیاسی مخالفین۔
گورنر نے کہا عوام سڑکوں پر مشکلات جھیل رہے ہیں جبکہ قیادت اسلام آباد میں چھپ کر بیٹھ گئی ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات اور پریشانی کو فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مخصوص عناصر اور گروپس اپنے اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے وسائل استعمال کر رہے ہیں، اور عوام کو صرف ان مخصوص گروپس کی کارروائیوں کے تناظر میں نہ پرکھا جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹ میں کارروائی اور پروٹوکول کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹیرینز کے مسائل اور رویے کو مناسب طریقے سے ڈیل کرنا ضروری ہے، اور پارلیمنٹ میں پولیس کی مداخلت اور تحریری استعار جمع کرانے کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شیر افضل مروت کی اچانک آمد، وزیراعلیٰ نے دھرنا کیوں چھوڑا؟ شیر افضل کا ردِعمل سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ قانونی اور سیاسی کارروائیوں میں توازن قائم رکھنا عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
گورنر نے سابقہ سی ایم کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پرانے سی ایم کو اڈاپٹر دیے گئے تھے، لیکن وقت کے ساتھ کچھ نافرمان ہو گئے۔
بانی کو نکالنے کی کوشش کے حوالے سے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں، اور پرانے سی ایم کے انکشافات وقت کے ساتھ نافرمان بچوں کی وجہ سے ناکام ثابت ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری ماحول میں کچھ بچے نظم و ضبط سے ہٹ کر رویہ اختیار کر گئے، اور عوام اور رہنماؤں کے رویے مستقبل کے سیاسی ماحول پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
میڈیکل اور سیکیورٹی معاملات پر گورنر نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم نے میڈیکل ٹریٹمنٹ فراہم کی اور کوئی غیر ضروری سیاسی عمل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : صوابی میں احتجاج کا چوتھا روز، موٹر وے بند، مسافر بے بسی کی تصویر بن گئے
پرنسپل ایکسس پر فیملی اور پرسنل ڈاکٹرز کا اعتماد برقرار رکھا گیا، اور فیملی ایکسس اس لیے محدود تھا تاکہ مریض کی پرائیویسی اور کنٹرول برقرار رہے۔
عدالتوں کے احکامات کے مطابق کوئی فرد ملک سے باہر نہیں بھیجا گیا، اور سیکیورٹی و پروٹوکول کے مطابق اقدامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
آخر میں گورنر نے علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور محسن نقوی کے اچھے بچے تھے، محسن نقوی نے انہیں اڈاپٹ کیا ہوا تھا، اور مجھے نہیں لگتا کہ محسن نقوی نے عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کی کوشش کی ہوگی۔





