وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے خیبر پختونخوا میں راستوں کی بندش کو آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
وزیرمملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کے لیے ووٹ لیا تھا لیکن وہ انہیں ہی اذیّت پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی قیادت اور ان کے اپنے ڈاکٹروں کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے، اس کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے عوام کو کس بات کی سزا دے رہی ہے؟
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جھوٹ کی بنیاد پر اپنے ہی صوبے اور ہمارے بہن بھائیوں کو اذیّت پہنچانے کے لیے تیار ہے جو مجرمانہ اقدام ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر احتجاج جاری ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ریسٹ ایریا کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبر پختونخوا میں راستوں کی بندش پر کھلا اور شدید ردعمل
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج نے نہ صرف سیاسی محاذ پر ہلچل پیدا کی بلکہ اپنے ہی عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبوں کو ملانے والی اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے، اور رمضان کے آغاز سے پہلے سفری رکاوٹوں کی وجہ سے عوامی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے مریض اور مسافر بھی اس احتجاج کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، اور سڑکوں کی بندش سے عام شہری براہِ راست پریشانی میں ہیں، نہ کہ سیاسی مخالفین۔
گورنر نے کہا عوام سڑکوں پر مشکلات جھیل رہے ہیں جبکہ قیادت اسلام آباد میں چھپ کر بیٹھ گئی ہے۔ عوام کو درپیش مشکلات اور پریشانی کو فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مخصوص عناصر اور گروپس اپنے اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے وسائل استعمال کر رہے ہیں، اور عوام کو صرف ان مخصوص گروپس کی کارروائیوں کے تناظر میں نہ پرکھا جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹ میں کارروائی اور پروٹوکول کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹیرینز کے مسائل اور رویے کو مناسب طریقے سے ڈیل کرنا ضروری ہے، اور پارلیمنٹ میں پولیس کی مداخلت اور تحریری استعار جمع کرانے کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔





