بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے مثبت پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی مالی کارکردگی مستحکم رہی اور ملک نے جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے مساوی بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو پروگرام کے مقررہ اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن نے کہا کہ ادارے کا وفد 25 فروری سے پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرے گا، اس دورے کا مقصد جاری معاشی پروگراموں پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔
جولی کوزیک نے کہا کہ وفد توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گا۔
جولی کوزیک کے مطابق ای ایف ایف کے تحت اختیار کی گئی پالیسیوں نے پاکستان کی معیشت کو استحکام فراہم کیا اور معاشی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر
آئی ایم ایف حکام کے مطابق مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جبکہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان نے 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا، جو معاشی بحالی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔





