افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا، پکتیا، خوست اور ننگرہار میں پاکستان نے مبینہ فضائی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے متعدد مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کارروائی میں 7 مختلف ٹھکانوں کو ہٹ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 28 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے سرحدی تحفظ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی، اور اس میں دہشت گرد عناصر کو مخصوص اور درست ہدف بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی طالبان (فتنہ الخوارج) اور اسلامی ریاست خراسان (ISKP) کے کیمپوں کے خلاف کی گئی۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں حملوں کی ذمہ داری فتنہ الخوارج اور ISKP نے قبول کی ہے اور ان حملوں میں افغانستان میں موجود خوارج قیادت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
پاکستان نے بارہا افغان طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے تاہم افغان عبوری حکومت کی جانب سے مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، جس پر پاکستان تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، حکومت کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا
پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کو اپنے وعدوں کی پاسداری پر آمادہ کرے۔





