ایران کی جانب سے بحرین، ابوظہبی اور کویت میں امریکی ائیربیسز پر حملے، خطے میں کشیدگی عروج پر ہے ۔
خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے کیونکہ ایران کی جانب سے بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی تنصیبات ان کے ہدف میں شامل ہیں اور امریکہ کے تمام اڈے اور مفادات ان کی پہنچ میں ہیں۔
بحرین کے سرکاری ذرائع اور میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ملک کی زمینی حدود میں ایرانی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق الجفیر بیس سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جہاں امریکی نیوی کے اہلکار تعینات ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اس کے پیش نظر اماراتی حکام نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ قطر نے بھی شہریوں کو فوجی اڈوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور عرب میڈیا کے مطابق ملک بھر میں مسلسل سائرن بج رہے ہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی اور اسرائیلی مفادات کے خلاف انتباہی اقدام ہیں اور خطے میں اپنی اسٹریٹجک موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے یہ اقدامات جاری رہیں گے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
خطے میں یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی طاقتیں پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں، اور شہری زندگی شدید خطرات سے دوچار ہے۔





