الف خان شیرپاؤ
چارسدہ کے علاقے مندنی سابندی میں قتل کئے گئے 4سالہ بچے محمد زکریا کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
13مارچ 2026 کوسمیع اللہ نےپولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا چار سالہ بھتیجا محمد زکریا نماز جمعہ کے بعد گھر سے نکلا لیکن واپس نہ آیا۔
تلاش کے دوران بچے کی لاش نزدیکی کھیتوں سے برآمد ہوئی، جسے نامعلوم ملزمان نے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی شلوار سے پھندا ڈال کر قتل کیا تھا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان اور ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ عالمزیب خان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے۔
ڈی پی او چارسدہ محمد وقاص خان نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ عالمزیب خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی تنگی گلشید خان، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن ریاض خان، ایس ایچ او مندنی اویس خان، ایس ایچ او تنگی نوشیروان خان، سی آئی او صفدر اقبال خان، سی آئی او بسم اللہ جان اور دیگر افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
تشکیل کردہ ٹیم نے مختلف زاویوں پر تفتیش کرتے ہوئے متعدد افراد کو شاملِ تفتیش کیا۔ اس دوران مقتول کے ورثاء کو معلوم ہوا کہ چار سالہ محمد زکریا کے قتل میں ملزمان نعمان اور نوشیروان عرف نوشیر ساکنان سابندی مندنی ملوث ہیں، جس پر ورثاء کی جانب سے ان کے خلاف دعویٰ دائر کیا گیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نعمان نے مقتول کے چچا سے قرض مانگا تھا جبکہ مقتول کے والد (جو کہ ایک استاد ہیں) نے ملزم نوشیروان کے بیٹے کو اسکول سے نکالا تھا جس کی رنجش پر دونوں ملزمان نے مل کر اس معصوم بچے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
پولیس نے ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ اس سنگین جرم کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ڈی پی او چارسدہ محمد وقاص خان نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔





