لندن: ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ ڈیمینشیا ایسا مرض ہے جس میں دماغ بتدریج تنزلی کا شکار ہوتا ہے اور اس کا مکمل علاج تاحال دستیاب نہیں، تاہم روزانہ چہل قدمی کی عادت اپنا کر اس بیماری کے خطرے میں نمایاں حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیمینشیا کے علاج کے لیے موجود ادویات صرف بیماری کے پھیلاؤ کو کسی حد تک سست کر سکتی ہیں، جبکہ مکمل شفا دینے والی کوئی دوا دستیاب نہیں۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ اس مرض کے تقریباً 45 فیصد کیسز صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے روکے جا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے ورزش کو سب سے مؤثر عادت قرار دیا گیا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ سخت ورزش یا جم کا رخ کیا جائے، بلکہ روزانہ باقاعدہ چہل قدمی بھی دماغی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چہل قدمی سے دماغ تک خون کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، خاص طور پر دماغ کے ان حصوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو یادداشت سے متعلق ہوتے ہیں۔ چونکہ ڈیمینشیا میں سب سے زیادہ یادداشت متاثر ہوتی ہے، اس لیے باقاعدہ پیدل چلنا اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
طبی جریدے جاما (JAMA) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 78 ہزار سے زائد افراد کے طرزِ زندگی اور دماغی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق روزانہ تقریباً 9 ہزار 800 قدم چلنے سے ڈیمینشیا کا خطرہ 51 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ناران میں دریائے کنہار میں گاڑی اتارنے والوں کے خلاف مقدمہ درج
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ 3 ہزار 800 قدم بھی چلے تو اس میں ڈیمینشیا کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
محققین نے مزید بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ چلنے کی رفتار میں نمایاں کمی مستقبل میں دماغی تنزلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو چلنے کے دوران بار بار گرنے، سانس پھولنے یا بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر خواہ کوئی بھی ہو، روزانہ چہل قدمی کو معمول بنانے سے دماغی صحت بہتر رہتی ہے، جبکہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے معمر افراد اگر پیدل چلنے کی عادت اپنا لیں تو وقت کے ساتھ ان کی دماغی کارکردگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔





