مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال میں ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ امن اور دفاع کی واحد یقینی حقیقت بن گیا

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید سیاسی و تزویراتی (اسٹریٹجک) بحران اور غیر یقینی صورتحال کے دوران پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (MJDA) خطے کے امن اور دفاع کی واحد پختہ اور غیر متزلزل ضمانت بن کر سامنے آیا ہے۔ 

ماہرین اور تزویراتی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اگر کوئی چیز یقینی اور مستحکم ہے، تو وہ تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان قائم یہ مضبوط دفاعی بلاک ہے۔

واضح اور جرات مندانہ دائرۂ کار

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی واضح، جرات مندانہ اور فیصلہ کن دائرۂ کار (Framework) تشکیل دیا ہے۔

اس اتحاد کا مقصد نہ صرف رکن ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے بلکہ خطے کی خودمختاری پر کسی بھی قسم کی انچ آنے سے روکنا ہے۔

اسرائیلی سازشوں اور پراکسیز کے خلاف چٹان

تزویراتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کا واحد ایسا مضبوط اور فعال اتحاد ہے جو خطے میں اسرائیلی سازشوں، توسیعی پسندانہ عزائم اور دیگر تخریب کار پراکسیز کے خلاف چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کی شناخت ‘ڈیزل’ کیوں بنی، یہ نام کس نے دیا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ حقائق سامنے آ گئے

 اس معاہدے کی بدولت خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور ناگہانی خطرات سے نمٹنے میں اہم مدد مل رہی ہے۔

پاکستان کے لیے باعثِ فخر مقام

پاکستان کے لیے نہ صرف مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اہم اور فعال رکن ہونا باعثِ فخر ہے، بلکہ اس بات پر بھی فخر اور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس تغیر پذیر صورتحال میں یہ اتحاد امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔

تجزئے نگاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیات، ترکیہ کی جدید ملٹری ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے تزویراتی و معاشی اثر و رسوخ کے گٹھ جوڑ نے اس معاہدے کو خطے کا سب سے طاقتور دفاعی حصار بنا دیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے المیے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

Scroll to Top