ضلع کرک میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت کے خونریز واقعے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سنسنی خیز پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ذرائع کے مطابق پولیس کی علاقائی نقل و حرکت سے متعلق دہشت گردوں کو پیشگی معلومات فراہم کرنے والے مقامی سہولت کاروں کے اہم اشارے مل گئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر گشت پر مامور پولیس اہلکاروں کی پل پل کی خبر دہشت گردوں تک پہنچانے والے سہولت کاروں کی سیاسی وابستگی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہونے کا شدید شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرِ تفتیش مشکوک عناصر ماضی قریب میں پی ٹی آئی کے روپوش اور بھگوڑے رکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک کے سیاسی جلسوں میں نہ صرف متحرک رہے بلکہ باقاعدہ شرکت بھی کرتے رہے ہیں۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فی الوقت سہولت کاروں کی کامل تصدیق کا عمل اور شواہد کی جانچ پڑتال انتہائی باریک بینی سے جاری ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اس اہم نقطے کو خاص طور پر پرکھ رہی ہیں کہ پولیس کی جاسوسی کر کے دہشت گردوں کی مدد کرنے والے عناصر کا پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کے ساتھ باضابطہ کوئی تنظیمی تعلق ہے، یا پھر یہ عناصر محض بھگوڑے ایم این اے شاہد خٹک کے ووٹرز اور حامیوں کے روپ میں کارروائی میں شامل تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تر ثبوت ملنے کے بعد جلد بڑا بریک تھرو متوقع ہے۔
دوسری جانب ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان سمیت چاروں پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔
نمازِ جنازہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر، آر پی او کوہاٹ شاکر حسین داوڑ، کمشنر کوہاٹ پرویز خان ثبت خیل، ایس ایس پی آپریشنز سی ٹی ڈی نجم الحسنین، ڈپٹی کمشنر کرک حامد اقبال اور ڈی پی او کرک نیاز محمد سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام، پولیس افسران اور شہداء کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کے جسدِ خاکی کو سلامی پیش کی، جبکہ آئی جی پی خیبر پختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکاء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔
اس موقع پر آئی جی پی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے شہداء کی بہادری، فرض شناسی اور بے مثال جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس کے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، لیکن اپنے فرائض کی انجام دہی سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس فورس کے افسران اور اہلکاروں کی یہ عظیم قربانیاں اور فرض سے غیر متزلزل وابستگی پوری فورس کے لیے مشعل راہ ہیں۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو پورے احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا گیا۔





