یورپی یونین امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف لگانے کے لیے تیار

لکسمبرگ : یورپی یونین نے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی امریکا کو صنعتی مصنوعات پر دو طرفہ زیرو ٹیرف معاہدے کی پیشکش بھی کی ہے۔

یہ فیصلہ یورپی یونین کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں کیا گیا، جو لکسمبرگ میں ہوا۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے نئے تجارتی ٹیرف پر غور کیا گیا، اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے علاوہ عالمی تجارتی نظام میں یورپ کے کردار پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

یورپی یونین ٹریڈ کمشنر نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ٹیرف کی فہرست 9 اپریل کو یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی، اور حتمی فہرست 15 اپریل کو منظور ہونے کے بعد امریکی مصنوعات پر یورپی ٹیکسوں کا نفاذ شروع کر دیا جائے گا۔

یورپی یونین ٹریڈ کمشنر نے مزید کہا کہ ابتدائی بات چیت میں امریکا کو گاڑیوں اور دیگر صنعتی مصنوعات پر دو طرفہ صفر ٹیرف کی پیشکش کی گئی ہے۔ یہ پیشکش امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کی درآمدات پر 416 ارب ڈالر سے زائد کا ٹیکس عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں امریکی ٹیرف عالمی معیشت کیلئے بڑا جھٹکا ہے: یورپی یونین

لکسمبرگ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو یورپی یونین کو مزید جارحانہ اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ آئرلینڈ، پولینڈ اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے بھی ٹیرف کے عالمی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ تمام رہنماؤں نے فوری مذاکرات کا آغاز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

ڈچ وزیر تجارت نے کہا کہ یورپی یونین کو امریکا کے ٹیرف کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اگر ضرورت پڑی تو یورپی یونین جوابی اقدامات کے لیے بھی تیار ہے تاکہ امریکا کو مذاکرات پر لایا جا سکے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وین ڈرلین پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکی ہیں کہ یورپی یونین امریکا کے ساتھ صفر کے بدلے صفر ٹیرف پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اب تک یورپی یونین نے 28 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکی شراب پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد کرتی ہے تو وہ بھی یورپی شرابوں پر 200 فیصد جوابی ٹیرف نافذ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں آئی ایم ایف سربراہ نے امریکی ٹیرف کو عالمی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیدیا

اس دھمکی کے بعد فرانس اور اٹلی جیسے شراب کے بڑے برآمد کنندہ یورپی ممالک میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی یورپی یونین پر 20 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر چکے ہیں۔

2024 میں یورپی یونین نے امریکا کو 582 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جبکہ امریکی درآمدات کا حجم 366 ارب ڈالر رہا۔ اس تجارتی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

Scroll to Top