پشاور (ویب ڈیسک) وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت صوبے کے تمام چیئرمین تعلیمی بورڈز سربراہان کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سالانہ میٹرک امتحان 2025 کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری تعلیم مسعود احمد، اسپیشل سیکرٹریز قیصر عالم اور خدا بخش، ایڈیشنل سیکرٹریز، تمام چیئرمین بورڈز، ڈائریکٹر تعلیم، کمیونیکیشن سپیشلسٹ محکمہ تعلیم اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں میٹرک سالانہ امتحانات 8 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں 475,807 طلبہ نویں جماعت کے امتحانات میں شریک ہوں گے جبکہ 444,404 طلبہ دسویں جماعت کے امتحانات دیں گے۔ اس کے علاوہ، صوبے بھر میں 3,634 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور سپروائزری عملے کی تعداد 25,810 ہے۔
اجلاس میں تمام چیئرمین بورڈز نے اپنی تیاریوں پر بریفنگ دی اور بتایا کہ امتحانات کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے فرنیچر، واش رومز، بجلی، پانی، نگران عملہ کی ڈیوٹیز، اسٹیشنری، انسپیکشن ٹیموں کی تشکیل، پرچے کی ترسیل اور دیگر امور شامل ہیں۔
وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے امتحانات میں نقل اور غیر قانونی ذرائع کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انسپیکشن عملہ طلبہ کو بلا وجہ پریشان نہ کرے۔
وزیر نے ای ایم آئی ایس سیل کو ہدایت کی کہ تمام بورڈز کے ساتھ کوآرڈینیشن کر کے محکمانہ سطح پر ایک مرکزی سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہر بورڈ کی سطح پر ایک کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں خیبر پختونخوا میں میٹرک امتحانات 2025 کا شیڈول جاری، ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد طلباء امتحان دینگے
انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹریٹ میں قائم انفارمیشن ڈیسک کی جانب سے تمام بورڈز کے تعاون سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی جائے گی، جو متعلقہ اعلیٰ حکام کو بروقت ارسال کی جائے گی۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے ہاٹ لائن نمبر، واٹس ایپ نمبر اور محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ پر شکایات پورٹل بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو غیر ضروری معائنوں کے باعث ذہنی دباؤ یا الجھن کا شکار نہ کیا جائے اور امتحانات کے دوران مکمل انصاف اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔





