خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے، بجٹ 332 ارب تک بڑھا دیا: علی امین گنڈاپور

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے متعدد انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے صحت کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کو صحت کارڈ پر رجسٹر کیا گیا، جبکہ دس لاکھ سے زیادہ مریضوں اور زخمیوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ صحت کے بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس سے مجموعی بجٹ 332 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

نچلی سطح پر صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے 120 بنیادی ایمرجنسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں صحت سے متعلق سہولیات بہتر بنانے کے لیے 85 سے زائد کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جبکہ سیکنڈری سطح کے ہسپتالوں کو 250 سے زائد طبی آلات اور سہولیات فراہم کی گئیں۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے 500 بستروں پر مشتمل جدید سرجیکل یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے ہسپتالوں کے لیے دو ارب روپے مالیت کی ادویات بھی خریدی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: مائنز اینڈ منرلز بل پر علی امین گنڈاپور سائن کرچکے ،وزیر پٹرولیم

مزید اقدامات کے تحت بنوں کے خلیفہ گل نواز ہسپتال میں پانچ نئے بلاکس اور پلاسٹک سرجری یونٹ، ڈیرہ اسماعیل خان میں جدید لیبارٹری اور کڈنی سینٹر، جبکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 400 ملین روپے کی لاگت سے ایم آر آئی اور ٹرانسپلانٹ ٹاور قائم کیا گیا ہے۔

حیات آباد میں 250 بستروں پر مشتمل جدید کارڈیالوجی ہسپتال، صوابی میں نوزائیدہ بچوں کے لیے 46 بستروں والا خصوصی یونٹ، اور بچوں کے لیے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے ایک الگ سپیشلائزڈ ہسپتال بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ صوبے کے ہر فرد کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

Scroll to Top