جے یو آئی (ف) کا سیاسی اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان، ازسرنو انتخابات کا مطالبہ دہرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے دو روزہ اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں 27 اپریل کو لاہور، 11 مئی کو پشاور، اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ’’شہداء غزہ ملین مارچ‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس میں واضح اعلان کیا ہے کہ پارٹی آئندہ صرف اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔ اجلاس میں ازسرنو صاف اور شفاف انتخابات کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا، جبکہ مائنز اینڈ منرلز بل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پارٹی اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومتی اور ریاستی ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ قیامِ حکومت میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کو دہراتے ہوئے جے یو آئی (ف) نے مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
جے یو آئی (ف) نے اعلان کیا کہ وہ باقاعدہ کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، تاہم مشترکہ قومی امور پر مذہبی اور پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تعاون کی حکمت عملی کا تعین مرکزی مجلس عاملہ یا شوریٰ کرے گی۔
اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز بل کو رد کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیا گیا، اور ان اراکین اسمبلی سے وضاحت طلب کی گئی جنہوں نے بل کی حمایت کی تھی۔ ان اراکین کو باقاعدہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) نے مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس کے فیصلوں میں از سرنو صاف اور شفاف انتخابات کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے صرف اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور باقاعدہ کسی سیاسی اتحاد میں نہ جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔





