کراچی: پاکستان سپر لیگ سیزن 10 کے میچز کے دوران کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شائقین کی دلچسپی ماند پڑ گئی، پانچ میچوں میں بھی اسٹیڈیم اپنی مکمل گنجائش کے قریب نہ پہنچ سکا۔
اسٹیڈیم کی 32 ہزار تماشائیوں کی گنجائش کے باوجود کسی دن 10 ہزار کا ہندسہ بھی عبور نہ ہو سکا، جو کہ شائقین کی ناراضی اور انتظامی خامیوں کی جانب واضح اشارہ ہے۔
ذرائع کے مطابق پیر کو معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم مجموعی طور پر نشستیں خالی ہی رہیں۔ شائقین کی عدم دلچسپی کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں جن میں سخت سکیورٹی چیکنگ، اسٹیڈیم میں کھانے پینے کی اشیاء کے ہوشربا نرخ، اور یکطرفہ میچز سرفہرست ہیں۔ یہاں تک کہ قیمتی انعامات کی تقسیم بھی لوگوں کو متوجہ کرنے میں ناکام رہی۔
ایک شائق نے شکایت کرتے ہوئے کہا،پانچ گھنٹے کا میچ دیکھنا اور پیاسے بیٹھنا ممکن نہیں۔ جبکہ ایک خاتون نے رائے دی کہ تماشائیوں کو انعامات نہیں بلکہ سہولیات کی ضرورت ہے۔
شائقین نے تجویز دی کہ اسٹیڈیم کے داخلی عمل کو بہتر بنانے کے لیے جدید سکینر مشینیں نصب کی جائیں اور ٹکٹوں کی خرید و فروخت کا عمل بینکوں کے ذریعے آسان بنایا جائے تاکہ عوام بآسانی ٹکٹ حاصل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں پی ایس ایل10،ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کو 33 رنز سے ہرا دیا
پی ایس ایل جیسا بڑا ایونٹ اگر شائقین سے محروم رہ جائے تو یہ نہ صرف منتظمین کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کی کوششوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ان شکایات کا نوٹس لیتا ہے یا نہیں۔





