غزہ : اسرائیل کے غزہ پر مسلسل جاری فضائی حملوں میں گزشتہ رات مزید شدت آ گئی، جس کے نتیجے میں مزید 40 فلسطینی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق حملے رات بھر جاری رہے جس سے شہادتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 51 ہزار 305 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی شامل ہے۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک اہم بیان میں مزاحمتی تنظیم حماس پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے یرغمالیوں کو رہا نہ کرکے اسرائیل کو غزہ پر حملے جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا ہے۔
صدر عباس نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کرے، ہتھیار ڈال دے اور غزہ کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے تاکہ اسرائیل کے ساتھ جاری خونریز جنگ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کی قیمت ہم اور ہمارے عوام چکا رہے ہیں، روزانہ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ اگر یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو یہ تباہی مزید بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے جاری، مزید 32 فلسطینی شہید ہوگئے
دوسری جانب حماس نے صدر عباس کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیلی مؤقف کی تائید سے تعبیر کیا ہے۔
ادھر عالمی برادری کی جانب سے فائر بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے حملے فی الحال تھمنے کے آثار نہیں دکھا رہے۔





