بیجنگ : چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کی پہلی 10 جی براڈبینڈ انٹرنیٹ سروس متعارف کرا دی ہے، جو انٹرنیٹ کی رفتار کے عالمی معیارات کو نئی بلندیوں پر لے گئی ہے۔
چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے پیش کی گئی اس جدید ترین سروس کی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 9,934 میگابائٹس فی سیکنڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ 1,008 میگابائٹس فی سیکنڈ ہے، جو کہ صارفین کو بے مثال ڈیٹا ٹرانسفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس رفتار کے تحت صارفین صرف 20 سیکنڈ میں 20 گیگابائٹس کی فل لینتھ 4K فلم ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
یہ سروس ابتدائی طور پر بیجنگ، شنگھائی اور گوانگژو جیسے بڑے شہروں میں شروع کی گئی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اسے پورے ملک میں وسعت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف تکنیکی ترقی کی علامت ہے بلکہ اس کے اثرات زندگی کے مختلف شعبوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
تیز رفتار انٹرنیٹ کی بدولت ویڈیو اسٹریمنگ، آن لائن گیمنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ورچوئل رئیلٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ایپلی کیشنز میں غیر معمولی بہتری ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں میٹا کا انسٹاگرام صارفین کی عمر کی تصدیق کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا اعلان
خصوصاً صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں یہ سروس انقلاب لا سکتی ہے۔ ٹیلی میڈیسن، ریموٹ سرجری، ای-لرننگ اور ڈیٹا بیسڈ زرعی تکنیکوں کو فروغ دینے میں یہ ٹیکنالوجی بنیادی کردار ادا کرے گی۔
چین کی اس پیش رفت کو عالمی سطح پر ڈیجیٹل دوڑ میں ایک نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو آئندہ دہائی میں دنیا کے انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔





