عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو شرمناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی کو سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ بھارت کی اس حرکت کے بعد پاکستان نے شملہ معاہدہ معطل کرکے بھرپور جواب دیا ہے، یہ وقت پاکستان کی تمام اکائیوں کے اتحاد کا ہے اور تمام سیاسی، مذہبی و علاقائی قیادت کو مل کر ملکی سلامتی کا دفاع کرنا ہوگا۔
ایمل ولی خان نے زور دیا کہ ہم بھارت کی اس شرمناک حرکت اور ڈرامے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، امن کی راہ ہموار کرنے اور مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے ہم خود کو پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھارت اور افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن دوغلا پن ناقابلِ قبول ہے، انہوں سوال اٹھایا کہ واہگہ بارڈر بند کر دیا گیا ہے تو کرتارپور راہداری کیوں کھلی ہے؟ کیا بھارت نے پاکستانی مسلمانوں کو اجمیر شریف جانے کی اجازت دی ہے؟
یہ بھی پڑھیں:بھارتی رویہ خطے کے لیے تباہ کن، سندھ طاس معاہدے کو چیلنج نہ کرے، ہمایوں خان
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اگر بارڈر بند کرنے ہیں تو سب کے لیے ایک ہی پالیسی ہونی چاہیے ورنہ کسی کے لیے بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ ہوگا، دونوں ممالک ایٹمی طاقت رکھتے ہیں اور جنگ کی صورت میں تباہی یقینی ہے۔





