عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پارلیمان کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں چوروں، ڈاکوؤں اور مجرموں کی تصویریں لانے پر پابندی عائد کی جائے،
سینیٹ ایک باوقار ادارہ ہے جہاں ارکان کو اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے اور جنہیں اختلاف ہے وہ برداشت کریں۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ جب ملک کی بات آتی ہے تو ہم پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں مگر جیسے پاکستان کو اپنے پانی سے پیار ہے ہمیں بھی اپنے قدرتی وسائل سے اتنی ہی محبت ہے، پختون، بلوچ اور دیگر اقوام کے حقوق پر ہونے والے ڈاکے پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
ایمل ولی خان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی زمینوں، معدنی وسائل اور جنگلات پر دن دیہاڑے قبضے ہو رہے ہیں جو کہ آئین پاکستان 1973 کے آئین کی روح کے منافی ہے، جو بھی 1973 کے آئین کی مخالفت کرے گا ہم اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مل کر خیبر پختونخوا کے وسائل پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں جو ناقابل قبول ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی فیصلے صرف پنجاب کو مدنظر رکھ کر نہ کیے جائیں کیونکہ پاکستان صرف پنجاب نہیں اور پنجاب ہی صرف پاکستان نہیں ہے۔
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی اپنی جگہ مگر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اٹھارہویں آئینی ترمیم پر حملے بند کرنے ہوں گے، انہوں نے ایوان بالا میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف چوری، دوسری طرف سینہ زوری، یہ رویہ مزید نہیں چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
ایمل ولی خان نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر پی ٹی آئی کے متضاد بیانات پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس دن اپوزیشن لیڈر کہاں تھے؟ اگر اراکین بک گئے تھے تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ آج وہ لوگ نظریات کی بات کرتے ہیں جن کا کوئی نظریہ باقی نہیں رہا اور وہ صرف مخصوص خدمتوں تک محدود ہو چکے ہیں۔





