اسلام آباد: امریکا میں صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ تنظیم ورلڈ لبرٹی فنانشل اور پاکستان کریپٹو کونسل کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، ڈبلیو ایل ایف کے اعلیٰ سطحی وفد نے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم، آرمی چیف، نائب وزیراعظم، وزرائے اطلاعات و دفاع سمیت اہم حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی تعاون کو رسمی شکل دینا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مالیاتی جدت کی نئی لہر کو اپنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت خزانہ نے عندیہ دیا ہے کہ جلد کریپٹو کرنسی سے متعلق جامع قانون سازی کی پالیسیوں کا اعلان کیا جائے گا۔
معاہدہ ڈبلیو ایل ایف اور پاکستان کریپٹو کونسل کے درمیان ہونے والے اجلاس کے دوران طے پایا، جس میں وزیرِ خزانہ، کونسل کے سی ای او، اسٹیٹ بینک کے گورنر، چیئرمین ایس ای سی پی، اور وفاقی سیکرٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شریک تھے۔
اس معاہدے کے تحت بلاک چین مالیاتی مصنوعات کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز قائم کیے جائیں گے، جائیداد اور کموڈیٹیز جیسے حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لیا جائے گا۔ ریمٹینسز اور تجارت کے لیے اسٹیبل کوائن ایپلی کیشنز کو وسعت دی جائے گی اور بلاک چین انفراسٹرکچر اور عالمی ریگولیٹری رجحانات پر اسٹریٹجک مشاورت فراہم کی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشتوں میں شامل ہے، جہاں 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر کریپٹو کرنسی کو اپنانے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جہاں سالانہ تقریباً 300 ارب ڈالر کی کریپٹو ٹرانزیکشنز اور 25 ملین فعال صارفین موجود ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ اور ٹیکنالوجی سیکٹر ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، اور شراکت داریوں کے ذریعے ہم بلاک چین معیشت میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔
پاکستان کریپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ہماری شراکت محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جو ہماری نوجوان نسل کو بااختیار بنائے گا۔





