غزہ:غزہ میں اسرائیلی پابندیوں اور امداد کی بندش کے باعث غذائی بحران انتہائی سنگین ہو گیا ہے، جہاں تین لاکھ کے قریب بچے فاقہ کشی کے باعث زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بے بی فارمولا دودھ اور دیگر غذائیت بخش اشیاء کی عدم دستیابی کے باعث ساڑھے تین ہزار سے زائد شیرخوار بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ چکی ہیں۔
اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ میں ہر طرح کی انسانی امداد کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی، جو تاحال برقرار ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔
غذائی امداد کی نگرانی کرنے والی عالمی تنظیم “اوکسفیم” نے اسرائیلی اقدام پر اقوامِ عالم کی مجرمانہ خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچوں کی بدترین حالت کی ذمہ داری پوری دنیا پر عائد ہوتی ہے، جو تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری بھی تھم نہ سکی۔ صرف آج صبح سے اب تک ہونے والے فضائی حملوں میں 40 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس سے علاقے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں غزہ، اسرائیلی جارحیت سے مزید 43 فلسطینی شہید
عالمی برادری کی فوری مداخلت نہ ہوئی تو غزہ میں ہزاروں بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، اور ایک بڑا انسانی سانحہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔





