ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتِ حال پر ردعمل دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام میں مدد کی پیشکش کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت دونوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، دونوں ملکوں کے ساتھ اُن کے اچھے تعلقات ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان جاری تنازع ختم ہو اور معاملات پرامن انداز میں سنبھالے جائیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’اگر میں کچھ مدد کر سکتا ہوں، تو میں ضرور حاضر ہوں گا۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو جواب دے دیا ہے، اب وقت ہے کہ وہ رک جائیں اور کشیدگی میں کمی لائیں۔
یاد رہے کہ اس بیان سے قبل امریکی صدر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کو ’’شرمناک‘‘قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا تھا۔
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے علاقوں کوٹلی، مظفر آباد اور باغ کے علاوہ پاکستان کے شہروں مریدکے اور احمد پور شرقیہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں دو مساجد شہید ہوئیں، جب کہ دو بچوں سمیت 31 افراد شہید اور 51 زخمی ہوئے۔
پاکستان نے بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کے تین رافیل، ایک مگ-29، ایک ایس یو-30 طیارے اور ایک کومبیٹ ڈرون کو مار گرایا، جس سے بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی ثالثی کی پیشکش کو عالمی سطح پر امن کی کوششوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر دونوں ممالک کا باقاعدہ ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔





