آئی پی ایل مزید تاخیر کا شکار، غیر ملکی کھلاڑیوں کا کھیلنے سے انکار

پاکستانی ردعمل کے خوف سے بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، آئی پی ایل ایک ہفتے کے لیے ملتوی

پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بھارت کی بزدل حکومت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا کہنا ہے کہ لیگ کے ملتوی کرنے کے فیصلے سے پہلے فرنچائزز، براڈکاسٹرز اور سپانسرز سمیت تمام اہم سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔

بی سی سی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ہمیں اپنی مسلح افواج کی مکمل صلاحیت پر اعتماد ہے لیکن موجودہ حالات میں تمام متعلقہ فریقین کے اجتماعی مفاد میں یہ احتیاطی اقدام اٹھانا ضروری تھا۔

آئی پی ایل کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب دھرم شالہ میں جاری میچ کے دوران فلڈ لائٹس کی خرابی کی وجہ سے میچ منسوخ کیا گیا۔

کشمیر سے قریب ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات کے تحت کھلاڑیوں، عملے اور میڈیا کو فوری طور پر شہر سے نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔

23 مئی تک جاری رہنے والے ایونٹ میں اب بھی 16 میچز باقی ہیں، بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مکمل جائزہ لینے اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد نئے شیڈول اور مقامات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

ٹورنامنٹ میں شامل انگلینڈ کے 10 موجودہ و سابقہ کھلاڑیوں نے بھارت سے واپس اپنے ملک جانے کا فیصلہ کر لیا کچھ کھلاڑی وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ آسٹریلوی کھلاڑی بھی جلد بھارت سے نکلنے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، پی ایس ایل 10 دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی جانب سے بھی سیکیورٹی صورتحاک کے پیش نظر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے باقی میچز کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کا بھی اعلان سامنے آیا ہے۔

Scroll to Top