پیرول پر رہا کرنے کی درخواست، اعتراضات کا جائزہ لے کر فیصلہ دوں گا، قائم مقام چیف جسٹس

پیرول پر رہا کرنے کی درخواست، اعتراضات کا جائزہ لے کر فیصلہ دوں گا، قائم مقام چیف جسٹس

وکیل پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اسسٹنٹ رجسٹر ار قابل سماعت ہونے کا معاملہ نہیں دیکھ سکتا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی اور ریمارکس دیئے کہ ’’جو اعتراضات لگے ہیں، اُن پر آرڈر پاس کر دوں گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا درخواست کو ڈویژن بینچ کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ اسسٹنٹ رجسٹرار نہیں، بلکہ عدالت ہی طے کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ ایک شخص کو انصاف نہیں مل رہا، پروبیشن اور پیرول الگ الگ معاملات ہیں۔‘‘

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل بھی عدالت میں زیر التواء ہے مگر ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی، جبکہ پیرول پر رہائی کے لیے دی گئی درخواست صوبائی حکومت کے پاس موجود ہے، لیکن پیش رفت نہیں ہو رہی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’’بانی پی ٹی آئی کا موجودہ حالات میں جیل سے باہر آنا قومی مفاد میں ہے۔‘‘

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’’یہ تو حکومت کا کام ہے، آپ وہاں جائیں، یہاں کیوں آئے؟ اگر حکومت آپ کا کام نہیں کرتی تو پھر عدالت کے پاس آئیں۔‘‘
اس موقع پر سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سے متعلق توہین عدالت کی متعدد درخواستیں زیر التواء ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ملاقاتوں کی اجازت مل چکی ہے، تاہم توہین عدالت کی 7 درخواستیں اب بھی زیرِ سماعت ہیں۔‘‘

لطیف کھوسہ نے مؤقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں نہ صرف ملاقات سے روکا جا رہا ہے بلکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ وہ صوبے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سماعت کے دوران کھوسہ ایڈووکیٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست بھی مقرر نہیں ہوئی۔ جس پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ’’میں نے اُس کیس میں اعتراضات دور کر دیے تھے، مگر یہ پیرول کیس ایک الگ معاملہ ہے، اسے الگ ہی دیکھوں گا۔‘‘

عدالت نے درخواست پر مزید سماعت کے لیے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ جلد آرڈر جاری کیا جائے گا۔

Scroll to Top