غیر قانونی طور پرمقیم بھارتی شہریوں پر امریکی شکنجہ سخت، ہزاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

واشنگٹن/نئی دہلی :امریکہ نے بھارت سے تعلق رکھنے والے ان شہریوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر امریکی سرزمین پر قیام پذیر ہیں۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ویزا مدت سے زیادہ قیام کرنے والے افراد کو ملک بدری اور آئندہ کے لیے امریکہ کے سفر پر مستقل پابندی جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ امریکہ میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی فرد مقررہ ویزا مدت کے بعد بھی امریکہ میں رہتا ہے، تو اسے ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں امریکہ داخلے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور سے لے کر اب تک غیر قانونی بھارتی شہریوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ غیر قانونی رہائش اختیار کرنے والے متعدد بھارتی شہریوں کو امریکہ سے نکالنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار بھارتی شہری غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صرف 2023 میں ہی 51 ہزار بھارتیوں نے امریکہ میں پناہ کی درخواست دی، جو کہ گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں 470 فیصد زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی شدید کمی اس ہجرت کی بڑی وجوہات ہیں۔

اپریل 2025 میں بھارت میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جب کہ شہری علاقوں میں یہ شرح 6.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس سے نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت میں معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو غیر قانونی ہجرت کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top