ہارورڈ یونیورسٹی پر بین الاقوامی طلبہ کے داخلے کی پابندی عارضی طور پر ختم

واشنگٹن: ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبہ کے داخلے پر عائد پابندی کے خلاف اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی فیڈرل جج نے حکومت کی جانب سے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام (SEVP) کی سرٹیفکیشن کی منسوخی کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے اسے قانون کے منافی اور انتقامی اقدام قرار دیا۔

یونیورسٹی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ بین الاقوامی طلبہ کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران 2.65 ارب ڈالرز کے وفاقی فنڈز کو منجمد کرنے کا حکومتی فیصلہ بھی زیر بحث آیا، جسے یونیورسٹی نے شدید مخالفت کے ساتھ چیلنج کیا۔

فیڈرل جج کے فیصلے کے بعد ہارورڈ سمیت دیگر نامور امریکی جامعات نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی طلبہ کے لیے دوبارہ امریکہ میں داخلے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایپل کو آئی فونز کی فروخت پر 25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، ٹرمپ

اس فیصلے کو تعلیمی آزادی اور بین الاقوامی طلبہ کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top