شامی صدر احمد الشراع اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے درمیان استنبول میں اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی چیلنجز اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران شامی صدر احمد الشراع نے ترکیہ کی جانب سے شامی حکومت کی مستقل حمایت، مغربی پابندیوں کی مخالفت اور علاقائی استحکام کے لیے کیے گئے کردار پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کیا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے، ترک وفد میں وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یاسر گولراور دیگر حکام شامل تھے، شامی وفد کی قیادت وزیر خارجہ اسعد حسن الشبانی نے کی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود نے ایک ساتھ کھانا بھی کھایا جو تعلقات میں گرمجوشی اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں صدر اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ ہر بین الاقوامی فورم پر شام میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مخالفت جاری رکھے گا، انہوں نے کہا کہ ہم شام کی علاقائی سالمیت اور اس کی مرکزی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کا کام ثقافتیں بدلنا نہیں، دشمن کو ختم کرنا ہے، امریکی صدر کا ویسٹ پوائنٹ میں خطاب
صدر ایردوان نے امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے شام پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت شام کے لیے ایک مثبت قدم ہے اور ترکیہ، توانائی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں دمشق کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دے گا۔





