اسلام آباد: ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 77 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر قابو پانے اور عوامی ریلیف کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں اہم وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔
چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق فی الحال ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی فوری بحران کا خطرہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم نے خیبرپختونخوا میں جرگہ سسٹم کی بحالی اور متبادل نظامِ انصاف کے لیے 18 رکنی کمیٹی قائم کر دی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک ورکنگ گروپ روزانہ کی بنیاد پر عالمی و مقامی صورتحال کا جائزہ لے گا، جبکہ کمیٹی ہر ہفتے اجلاس کر کے وزیر اعظم کو سفارشات پیش کرے گی۔ کسی بھی ممکنہ سپلائی بحران سے بچنے کے لیے پیشگی حکمت عملی بھی تیار کی جائے گی۔





