خیبرپختونخوا میں ادویات اسیکنڈل میں 1 ارب 25 کروڑ کی خورد برد کا انکشاف

خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی مریضوں کے لیے سنگین خطرہ

پشاور :خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز میں سنگین انتظامی اور طبی بے قاعدگیاں سامنے آ گئی ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے بیشتر ہسپتالوں میں بنیادی ادویات، ضروری طبی آلات، صفائی ستھرائی اور ڈاکٹرز کی حاضری کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے 32 بڑے ہسپتالوں میں صرف 45 فیصد میں ترجیحی جبکہ 41 فیصد میں ہی بنیادی ادویات دستیاب ہیں۔ صرف ایک ہسپتال میں 80 فیصد ادویات کی دستیابی پائی گئی۔ طبی آلات کے حوالے سے بھی صورتحال ابتر ہے، 60 اہم طبی آلات میں سے صرف 84 فیصد کام کے قابل ہیں جبکہ صرف 3 ہسپتالوں نے 90 فیصد آلات کی فعالیت کا ہدف حاصل کیا۔

ڈاکٹرز کی غیر حاضری ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ مئی 2025 میں 390 ڈاکٹرز دستیاب نہیں تھے، جن میں سے 228 غیر حاضر تھے۔ جنوری 2023 سے مئی 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، مستقل غیر حاضر ڈاکٹرز کی فہرست بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد و رفت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 847 اوپی ڈی اور 491 ایمرجنسی کیسز ریکارڈ ہوئے، تاہم 14 ہسپتالوں میں اوپی ڈی اور 5 ہسپتالوں میں ایمرجنسی مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا میں 45 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

صفائی کے معیار پر بھی کسی ہسپتال نے 90 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا، جبکہ 12 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں صفائی کا معیار مزید گر گیا ہے۔ بیت الخلاء کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، صرف 81 فیصد بیت الخلاء فعال پائے گئے جبکہ 8 ہسپتالوں میں یہ شرح 90 فیصد سے کم ہے۔

رپورٹ میں فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ حکومت نے 1.19 ارب روپے مختص کیے جبکہ 1.21 ارب روپے جاری کیے گئے۔ تاہم، بعض ہسپتالوں جیسے ڈی ایچ کیو مردان اور ہری پور نے 138 فیصد سے 178 فیصد تک فنڈز خرچ کیے، جس سے فنڈز کی غیر مساوی تقسیم کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

Scroll to Top