پشاور :محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جن کی مجموعی مالیت 45 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پشاور بس ٹرمینل اور روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے انتظامی امور میں کئی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں، تاہم تاحال محکمہ کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی بے ضابطگی 20 کروڑ 24 لاکھ روپے کی ہے، جو بینک اکاؤنٹس سے حاصل ہونے والے منافع کو حکومتی خزانے میں منتقل نہ کیے جانے سے متعلق ہے۔
اس کے علاوہ پشاور بس ٹرمینل کی نیلامی نہ ہونے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس سے 17 کروڑ 76 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ 2019-20 سے اب تک ٹھیکہ پرانی شرح پر ہی جاری رکھا گیا۔
مزید انکشافات کے مطابق این ٹی این نہ ہونے کی وجہ سے اضافی ٹیکس کٹوتی کی گئی جس سے 3 کروڑ 31 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ٹیکس کی عدم وصولی کے باعث 1 کروڑ 56 لاکھ روپے اور ادا شدہ ٹیکس کی کم وصولی سے 63 لاکھ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نجی کمپنی سے کرایہ کم وصول کرنے پر 48 لاکھ روپے، اور ٹھیکیداروں کی جانب سے ارنسٹ منی جمع نہ کرانے پر 17 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : وفاق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی سازش کررہا ہے،علی امین گنڈا پور
اسی طرح ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی عدم کٹوتی سے 9 لاکھ 54 ہزار روپے، جبکہ دو مشتبہ غبن کے واقعات میں 5 لاکھ روپے کی کال ڈپازٹ غائب اور 2 لاکھ روپے کی غیر واضح رقم نکالی گئی۔
رپورٹ میں ان تمام بے قاعدگیوں کی نشاندہی کے باوجود محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ان پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔





