دریائے سوات سانحہ :وزیراعلیٰ فوری طورپر مستعفی ہوں، سابق ایم این اے ڈاکٹر حیدر کا مطالبہ

سوات :پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر نے دریائے سوات میں پیش آنے والے حالیہ سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ خیبر پختونخوا کو آڑے ہاتھوں لیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ فلسطین کے حالات سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔

ڈاکٹر حیدر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر کہرام مچا ہوا ہے، جبکہ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا بھی اس دلخراش سانحے کو نمایاں طور پر نشر کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ میں چالیس سال سے سیاست میں فعال ہوں، اور ہر سال یہاں کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے،کبھی سیلاب اور کبھی پی ٹی آئی جو ہمارے لیے ایک ناسور بن چکی ہے، متعلقہ محکمے موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں کر رہے

انہوں نے کہاکہ یہاں پی ایچ ڈی سکالرز چپڑاسی کی نوکری کو ترس رہے ہیںاور کلاس فور ملازمت کے لیے بھی میرٹ بنایا جا رہا ہے، مگر جو حکمران خود نااہل ہیں وہ کیسے میرٹ کی بات کرتے ہیں؟

ڈاکٹر حیدر نے بٹگرام کے واقعات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم ان سانحات سے کچھ نہیں سیکھتے۔

انہوں نے تحریک انصاف اور اس کے وزراء کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کارکنوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، یہ حکومت کسی اور کے نام پر آئی اور کسی اور کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے حالیہ واقعے میں افسران کی معطلی کو محض نمائشی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند دن بعد وہی افسران بحال کر دیے جائیں گے، جبکہ اصل ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :دریائے سوات کے قریب ہر قسم کی مائننگ پر پابندی عائد

ڈاکٹر حیدر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل وزیراعلیٰ کی ویڈیو دیکھی، افسوس ہوا کہ ایسا شخص ہمارے صوبے کا سربراہ ہے،اگر وزیراعلیٰ فوری طور پر مستعفی نہ ہوئے تو پُرامن احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی،یہ وقت ہے کہ عوام جاگ جائیں لیکن تحریک انصاف کی طرح اسلام آباد پر حملہ نہیں کرنا بلکہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حق کے لیے کھڑا ہونا ہے۔

Scroll to Top