وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 285 درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹیز میں مکمل خاتمے یا کمی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ان پر دوبارہ محصولات عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام مقامی صنعتوں کے تحفظ اور متوقع ریونیو خسارے میں کمی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں پانچ سالہ نئے ٹیرف پالیسی پلان کے تحت حکومت نے 1984 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم یا کم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ملکی صنعتوں کو عالمی مسابقت کے قابل بنانا اور اوسط ٹیرف شرح کو 20.2 فیصد سے کم کر کے نواشارہ سات فیصد تک لانا تھا۔ تاہم اب اس پالیسی پر نظرثانی کے بعد 285 اشیاء پر نئی ڈیوٹیز عائد کی جا رہی ہیں، جن کا باضابطہ نوٹیفکیشن پیر کو جاری کیا جائے گا۔
پالیسی بورڈ نے اس نظرثانی شدہ فیصلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد متوقع ریونیو خسارہ 200 ارب روپے سے کم ہو کر 174 ارب روپے رہ جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبے میں خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات پر ڈیوٹیز میں کمی کی گئی تھی، لیکن بعد میں حکومت نے کچھ تیار شدہ اشیاء پر بھی ڈیوٹیز کم کر دی تھیں، جس سے مقامی صنعتوں کو بالخصوص چینی مصنوعات سے مسابقت میں نقصان کا سامنا ہو سکتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو کمیٹی اسٹیئرنگ کے بعض ارکان نے خبردار کیا تھا کہ اگر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہوا تو اس پالیسی سے زرمبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس تناظر میں نظرثانی کے بعد پہلے سال میں نوسو سترٹیرف لائنز پر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ 142 اشیاء کو ان سلیبز میں منتقل کیا جائے گا جن پر 20 فیصد یا اس سے کم ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
اسی طرح، ابتدائی طور پر 602 اشیاء پر 20 فیصد ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا، جو اب کم ہو کر 538 ٹیرف لائنز تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ 64 اشیاء پر مجوزہ کمی مؤخر کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر تجارت رانا احسان افضل کے مطابق، حکومت اب بھی اس پانچ سالہ پلان کے تحت اوسط ٹیرف شرح کو مرحلہ وار کم کرنے کے ہدف پر قائم ہے، لیکن ساتھ ہی مقامی صنعتوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔





