معاشی مشکلات میں ریلیف،پاکستان اور چین کے درمیان 3.7 ارب ڈالر کے قرض معاہدے، زرمبادلہ ذخائر 12.4 ارب ڈالر ہو گئے

معاشی مشکلات میں ریلیف،پاکستان اور چین کے درمیان 3.7 ارب ڈالر کے قرض معاہدے، زرمبادلہ ذخائر 12.4 ارب ڈالر ہو گئے

پاکستان اور چین کے درمیان 3.7 ارب ڈالر مالیت کے کمرشل قرضوں کے معاہدے طے پا گئے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ دہرے ہندسوں میں داخل ہو کر 12.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ رقم رواں مالی سال کے اختتام سے قبل یعنی ہفتہ (آج) جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، ان معاہدوں میں سب سے بڑا حصہ چین کے تین کمرشل بینکوں— چائنا ڈیولپمنٹ بینک، بینک آف چائنا اور انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (ICBC)— کا ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 2.1 ارب ڈالر (15 ارب آر ایم بی) کے مساوی قرض جاری کیا۔ ان میں سے ICBC کا 1.3 ارب ڈالر کا قرض، جبکہ بینک آف چائنا کا 300 ملین ڈالر کا قرض شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ قرضے تین سالہ مدت کے لیے دیے جا رہے ہیں اور انہیں چینی کرنسی (رینمنبی) میں جاری کیا گیا ہے۔ یہ اقدام چین کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ قرضے مرکزی بینک کے ذخائر میں شامل کیے گئے ہیں۔

اقتصادی سفارت کاری کی کامیابی
اطلاعات کے مطابق، ان معاہدوں کو حتمی شکل دینے میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 19 مئی سے چینی حکام سے رابطے شروع کیے اور وزارت خزانہ کی درخواست پر پس پردہ اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا۔

پہلے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ چین کی جانب سے 1.6 ارب ڈالر کے باقی ماندہ قرض معاہدے تاخیر کا شکار ہو جائیں گے، تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجے میں معاہدے مکمل ہو گئے اور رقم کی منتقلی کا عمل رواں مالی سال میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف معاہدے کی شق پوری
یہ قرضے پاکستان کو ان وعدوں کی تکمیل میں مدد دیں گے جو آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت کیے گئے تھے۔ ان میں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر کو 14 ارب ڈالر تک پہنچانا شامل ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

بیرونی انحصار میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یہ قرضے وقتی طور پر ذخائر میں استحکام لائیں گے، تاہم بیرونی قرضوں پر بڑھتا انحصار مستقبل میں حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر 2.7 ارب ڈالر کم ہو کر 9.1 ارب ڈالر تک گر گئے تھے، جس کی بڑی وجہ پہلے سے موجود کمرشل قرضوں کی ادائیگی تھی۔

ذرائع کے مطابق، اس ہفتے مرکزی بینک نے 3.1 ارب ڈالر کے مساوی کمرشل قرضے اور 500 ملین ڈالر سے زائد کے کثیرالجہتی قرضے وصول کیے، جس سے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا۔

کرنسی مارکیٹ پر دباؤ برقرار
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذخائر میں بہتری کے باوجود روپے پر دباؤ برقرار ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ سے بھاری ڈالر خریداری کے بعد روپے کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ غیر ملکی کرنسی کی کمی کے باعث بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھولنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد نے چین کے ایگزِم بینک سے سرکاری رعایتی قرضوں اور ترجیحی خریدار کریڈٹ (PBC) کی ری شیڈولنگ کی درخواست کی تھی، تاہم چین نے ان قرضوں کی ری شیڈولنگ سے انکار کر دیا ہے۔

Scroll to Top